26 جولائی 2026 - 04:10
اربیل-عراق میں امریکی فوجی ڈھانچے تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ایران آرمی

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران نشانہ بننے والے امریکی اڈوں کا ایک بڑا حصہ اپنی مؤثر آپریشنل صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران نشانہ بننے والے امریکی اڈوں کا ایک بڑا حصہ اپنی موثر آپریشنل صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔

انھوں نے کہا: عراق کے شمال مشرق میں واقع اربیل کے علاقے میں میں امریکی انفراسٹرکچر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے 25 جولائی 2026ع‍  بروز ہفتہ، "تہران 20" پروگرام میں امریکہ کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی حالیہ کارروائیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "امریکہ، صہیونی ریاست نے امریکہ کے ساتھ 28 فروری کو ایران پر ایک جنگ مسلط کی اور اس ملک کے پانی-مٹی پر جارحیت کا ارتکاب کیا لیکن یہ دونوں شیطانی ریاستیں اپنے اعلان کردہ کسی بھی مقصد کو حاصل نہ کر سکیں۔

دشمن کے اعلانیہ اور پوشیدہ اہداف حاصل نہیں ہوئے

انھوں نے کہا کہ امریکیوں نے ایران کی ایٹمی طاقت، اسلامی جمہوریہ کی میزائل صلاحیتوں اور مزاحمتی محاذ کی تباہی کو اپنے اعلان کردہ اہداف قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی صدر نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ جارحوں کے بنیادی اہداف میں شامل تھا!!!

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے مزید کہا: "ان اہداف کے علاوہ، اور بھی منصوبے تھے جن کے بارے میں کم بات کی گئی تھی؛ بشمول اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ الٹنا، ملک کو تقسیم کرنا، اور خطے میں نام نہاد "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کو آگے بڑھانا۔

بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے کہا: "آج اس جنگ کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے، ہم واضح طور پر یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ اللہ کی طاقت و توفیق سے، دشمن کے خفیہ اور اعلانیہ اہداف میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا؛ اور یہ ہماری میدانی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ، بذات خود ایک عظیم کامیابی ہے جو عوام کی کوششوں، رہبر معظم انقلاب کی قیادت اور مسلح افواج میں قوم کے بچوں کی جدوجہد سے حاصل ہوئی ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

اربیل-عراق میں امریکی ڈھانچے تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ایران

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha